دال
معنی
١ - مونگ، اُرد یا ارہر، چنا، مسور وغیرہ جسے دَل لیا جائے، دلا ہوا اناج۔ "شام کو . فوجے کو دو روٹیاں اور دال مفت دے دی۔" ( ١٩٨١ء، مٹی کا دیا، ٧٤ ) ٢ - کُھرنڈ۔ (پلیٹس) ٦ - [ تارکشی ] پانڈے میں کوے کی چونچ کی شکل کی بارے کا منہ درست کرنے کی ہتھوڑی کا اوپری حصہ جو پھیلا ہوا ہوتا ہے اور ایک نوکیلے سرے کو دنبالا کہتے ہیں۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 186:2) ٩ - [ نباتات ] بادام کے اوپر کے چھلکے کو دور کرنے سے اندر دو ٹکڑے ایک ہی طرح کے نظر آئیں گے .... ان دونوں کے مجموعے سے بادام بنتا ہے۔ ماہرین علم نباتات ان ٹکڑوں کو قطعات تخم (سیڈ لیوز) یا فلقہ یا دال (کاٹی لیڈ ان) کہتے ہیں۔ (مبادی سائنس، 153) ١٠ - [ کاشت کاری ] دالوا، تقسیم کرنا، دوپا کھا بیج، وہ بیج جس کی گری یا مغز جوڑواں یعنی دو برابر کے ٹکڑوں سے مرکب ہو۔ (ماخوذ : اصطلاحات پیشہ وراں، 63:6) ١١ - [ مرغ بازی ] مرغ کی انی کا ابھار انی (کانٹا) نکلنے کی علامت جو چنے کی دال کی شکل ابھرا ہوا معلوم ہوتا ہے، مکھی۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 117:8)
اشتقاق
اصلاً سنسکرت زبان کے لفظ 'دَل' سے ماخوذ 'دال' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٩٧ء سے "دیوان ہاشمی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مونگ، اُرد یا ارہر، چنا، مسور وغیرہ جسے دَل لیا جائے، دلا ہوا اناج۔ "شام کو . فوجے کو دو روٹیاں اور دال مفت دے دی۔" ( ١٩٨١ء، مٹی کا دیا، ٧٤ )