دانائی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - عقل؛ عقل مندی؛ ہوشیاری۔ "ادب میں اس طرح حکم لگانا کوئی دانائی کی بات نہیں ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ١٣ ) ٢ - بزرگی، بڑائی۔ "اس زمانے میں داڑھی کو دانائی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔"      ( ١٩٩٠ء، دجلہ، ١٩ )

اشتقاق

فارسی سے ماخوذ اسم 'دانا' کے بعد الف ہے اس لیے ہمزہ زائد لگا کر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٤٢١ء کو "بندہ نواز، معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقل؛ عقل مندی؛ ہوشیاری۔ "ادب میں اس طرح حکم لگانا کوئی دانائی کی بات نہیں ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، زمیں اور فلک اور، ١٣ ) ٢ - بزرگی، بڑائی۔ "اس زمانے میں داڑھی کو دانائی کا نشان سمجھا جاتا تھا۔"      ( ١٩٩٠ء، دجلہ، ١٩ )

اصل لفظ: دانستن
جنس: مؤنث