دانت
معنی
١ - کسی انسان یا حیوان کے منہ میں پایا جانے والا ہڈی کی طرح سخت عضو جو کاٹنے اور چبانے کا کام دیتا ہے، دندان۔ "دانت پر سفید چمک دار مادہ کی تہہ چڑھی ہوتی ہے جسے انیمل (Enamel) کہتے ہیں"۔ ( ١٩٨١ء، اساسی حیوانیات، ٨٣ ) ٢ - آری، کنگھی یا پہیے وغیرہ کا کٹاؤ یا چاقو وغیرہ کے دندانے جو دانت سے مشابہ ہوتے ہیں۔ "پہلے وہ ٹرک پہیے کے ایک دانت سے ایک طرف کو موڑ دیتا تھا"۔ ( ١٩٥٧ء، سائنس سب کے لیے، ٤٢٤:١ ) ٥ - ہاتھی یا سور کے لمبے دانت جو باہر نکلے ہوتے ہیں۔ اور ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ "نہ درندوں کے سنگ نہ دانت کہ ہتھیاروں کا کام دیں"۔ ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١:١ ) ٦ - میل، رغبت، میلان خاطر، خواہش، قصد، ارادہ۔ "ہمارا مدت سے اس پر دانت ہے"۔ ( ١٨٨٨ء، فرہنگ آصفیہ، ٢٢٥:٢ )
اشتقاق
پراکرت سے اردو میں داخل ہوا لیکن سنسکرت زبان میں اسے 'دنت' کہتے ہیں جبکہ فارسی میں 'دنداں' کہتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اردو میں ان دو زبانوں میں سے کسی سے آیا ہو لیکن پراکرت میں اصل صورت میں رائج رہا ہے اس لیے اغلب امکان یہی ہے کہ پراکرت سے آیا ہو گا۔ اردو میں ١٤٣٥ء کو "کدم راو پدم راو" میں استعمال ہوا۔
مثالیں
١ - کسی انسان یا حیوان کے منہ میں پایا جانے والا ہڈی کی طرح سخت عضو جو کاٹنے اور چبانے کا کام دیتا ہے، دندان۔ "دانت پر سفید چمک دار مادہ کی تہہ چڑھی ہوتی ہے جسے انیمل (Enamel) کہتے ہیں"۔ ( ١٩٨١ء، اساسی حیوانیات، ٨٣ ) ٢ - آری، کنگھی یا پہیے وغیرہ کا کٹاؤ یا چاقو وغیرہ کے دندانے جو دانت سے مشابہ ہوتے ہیں۔ "پہلے وہ ٹرک پہیے کے ایک دانت سے ایک طرف کو موڑ دیتا تھا"۔ ( ١٩٥٧ء، سائنس سب کے لیے، ٤٢٤:١ ) ٥ - ہاتھی یا سور کے لمبے دانت جو باہر نکلے ہوتے ہیں۔ اور ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ "نہ درندوں کے سنگ نہ دانت کہ ہتھیاروں کا کام دیں"۔ ( ١٩٠٦ء، الحقوق و الفرائض، ١:١ ) ٦ - میل، رغبت، میلان خاطر، خواہش، قصد، ارادہ۔ "ہمارا مدت سے اس پر دانت ہے"۔ ( ١٨٨٨ء، فرہنگ آصفیہ، ٢٢٥:٢ )