دانش

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - عقل مندی، دانائی، سمجھ؛ فکر، رائے۔ "ملک کے مختلف گوشوں کے اصحاب دانش و بینش کو . دعوت دی گئی"      ( ١٩٨٥ء، پاکستان میں نفاذ اردو کی داستان، ١٤ ) ٢ - علم و فن۔ "ترویج دانش اور کسب کمال میں بڑی کوشش کرو"      ( ١٨٨٣ء، دربار اکبری، ٧٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم مشتق ہے۔ مصدر 'دانستن' سے حاصل مصدر ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقل مندی، دانائی، سمجھ؛ فکر، رائے۔ "ملک کے مختلف گوشوں کے اصحاب دانش و بینش کو . دعوت دی گئی"      ( ١٩٨٥ء، پاکستان میں نفاذ اردو کی داستان، ١٤ ) ٢ - علم و فن۔ "ترویج دانش اور کسب کمال میں بڑی کوشش کرو"      ( ١٨٨٣ء، دربار اکبری، ٧٢ )

اصل لفظ: دانِسْتَن
جنس: مؤنث