دایاں

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - داہنا، سیدھا، بایاں کی ضد۔ "معمول تھا کہ دایاں ہاتھ اونچا کرکے چہرہ اس پر ٹیک کر سوتے کہ گہری نیند آجائے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢١١:٢ ) ٢ - جوڑی کا وہ طبلہ جو داہنے ہاتھ کے نیچے رہتا ہے۔ "جب سارنگوں کی طربیں مل گئیں تو طبلہ نواز نے دایاں ملایا۔"      ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٥٥ ) ٣ - فوج یا لشکر کا سیدھے ہاتھ کی جانب کا حصہ۔ "آئین جنگ کے یہ موجب امرائے شاہی آگا، پیچھا، دایاں، بایاں، سنبھال کر کھڑے ہوئے۔"      ( ١٨٨٣ء، دربار اکبری، ١٨ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'داہنا' سے 'دایاں' بنا۔ اردو میں بطور صفت نیز اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٨٣ء سے "دربار اکبری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - داہنا، سیدھا، بایاں کی ضد۔ "معمول تھا کہ دایاں ہاتھ اونچا کرکے چہرہ اس پر ٹیک کر سوتے کہ گہری نیند آجائے۔"      ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢١١:٢ ) ٢ - جوڑی کا وہ طبلہ جو داہنے ہاتھ کے نیچے رہتا ہے۔ "جب سارنگوں کی طربیں مل گئیں تو طبلہ نواز نے دایاں ملایا۔"      ( ١٩٦٢ء، ساقی، کراچی، جولائی، ٥٥ ) ٣ - فوج یا لشکر کا سیدھے ہاتھ کی جانب کا حصہ۔ "آئین جنگ کے یہ موجب امرائے شاہی آگا، پیچھا، دایاں، بایاں، سنبھال کر کھڑے ہوئے۔"      ( ١٨٨٣ء، دربار اکبری، ١٨ )

اصل لفظ: داہنا
جنس: مذکر