دباغت

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - کچے چمڑے کو پکانا، صاف کرنا اور رنگنا۔ "کھال پر چونکہ خون وغیرہ نجاست لگی ہوتی ہے اس لیے وہ دباغت سے پہلے حرام ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٣٦٢:١ ) ٢ - [ مجازا ]  رعب داب، دباؤ، دھونس، زور۔ "اراکین کالج گورنمنٹ کی دباغت میں آ گئے اور آٹھ طالب علموں کو خارج کر دیا۔"      ( ١٩٦٦ء، اردونامہ، کراچی، دسمبر، ٧٩ ) ٣ - [ طب ]  رطوبات خشک ہو جانے کے بعد کسی عضو میں پختگی یا مضبوطی آ جانا۔ "اس صورت میں فمِ معدہ کے اندر دباغت (مضبوطی) بھی نہیں جو سودا کے بکٹے پن سے لیس دار گاڑھے رطوبات کو پاک کرنے کے بعد ہوا کرتی تھی۔"      ( ١٩٣٦ء، شرح اسباب (ترجمہ)، ٣٣٨:٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں بھی بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٤٤ء کو "خلاصۃ المفقہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کچے چمڑے کو پکانا، صاف کرنا اور رنگنا۔ "کھال پر چونکہ خون وغیرہ نجاست لگی ہوتی ہے اس لیے وہ دباغت سے پہلے حرام ہے۔"      ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ٣٦٢:١ ) ٢ - [ مجازا ]  رعب داب، دباؤ، دھونس، زور۔ "اراکین کالج گورنمنٹ کی دباغت میں آ گئے اور آٹھ طالب علموں کو خارج کر دیا۔"      ( ١٩٦٦ء، اردونامہ، کراچی، دسمبر، ٧٩ ) ٣ - [ طب ]  رطوبات خشک ہو جانے کے بعد کسی عضو میں پختگی یا مضبوطی آ جانا۔ "اس صورت میں فمِ معدہ کے اندر دباغت (مضبوطی) بھی نہیں جو سودا کے بکٹے پن سے لیس دار گاڑھے رطوبات کو پاک کرنے کے بعد ہوا کرتی تھی۔"      ( ١٩٣٦ء، شرح اسباب (ترجمہ)، ٣٣٨:٢ )

اصل لفظ: دبغ
جنس: مؤنث