دبانا
معنی
١ - دابنا۔ "کسی صائب فعل کے نتیجے کے طور پر کسی بری خواہش کو دبا دیا جاتا ہے۔" ( ١٩٦٣ء، اصول اخلاقیات، ٣٠٣ ) ٢ - دباؤ ڈالنا، مجبور کرنا۔ دیکھ بکھری ہوئی دنیا کو دبانے کی نہ سوچ باز آئے گی بغاوت سے نہ باز آئی ہے ( ١٩٣٤ء، روح کائنات، ١٥٨ ) ٣ - (لشکر کا) دباؤ ڈالتے ہوئے آگے بڑھنا، پیچھے کرنا۔ "سواروں نے تعاقب کر کے اتنا دبایا کہ رانی رستہ بھول کر جنگل ہی میں بھٹک گئی" ( ١٩١٩ء، واعقات دارالحکومت دہلی، ٨١:١ ) ٤ - قبضہ کر لینا۔ "فلاں نواب سے عہدو پیماں کیے اور ان کو بالائے طاق رکھ، علاقہ دبا لیا" ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ٦٠ ) ٧ - پلکوں سے بند کر لینا۔ "تم اپنی ایک آنکھ دبا کے چاند کو دیکھو تو تمہیں بہت سے چاند دکھائی دیں گے" ( ١٩٠٥ء، سائنس و کلام، ٢٤ )
اشتقاق
پراکرت کے لفظ 'دب' کے ساتھ اردو میں قاعدے کے مطابق 'نا' بطور لاحقۂ مصدر لگانے سے 'دبنا' بنا جس سے یہ فعل متعدی ہے۔ اردو میں ١٧٩٥ء کو قائم کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دابنا۔ "کسی صائب فعل کے نتیجے کے طور پر کسی بری خواہش کو دبا دیا جاتا ہے۔" ( ١٩٦٣ء، اصول اخلاقیات، ٣٠٣ ) ٣ - (لشکر کا) دباؤ ڈالتے ہوئے آگے بڑھنا، پیچھے کرنا۔ "سواروں نے تعاقب کر کے اتنا دبایا کہ رانی رستہ بھول کر جنگل ہی میں بھٹک گئی" ( ١٩١٩ء، واعقات دارالحکومت دہلی، ٨١:١ ) ٤ - قبضہ کر لینا۔ "فلاں نواب سے عہدو پیماں کیے اور ان کو بالائے طاق رکھ، علاقہ دبا لیا" ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ٦٠ ) ٧ - پلکوں سے بند کر لینا۔ "تم اپنی ایک آنکھ دبا کے چاند کو دیکھو تو تمہیں بہت سے چاند دکھائی دیں گے" ( ١٩٠٥ء، سائنس و کلام، ٢٤ )