دبدبہ
قسم کلام: اسم مجرد
معنی
١ - شان و شوکت، شکوہ، کروفر، رعب داب، جاہ و جلال۔ بت کدے گر گئے آتش کدے ویران ہوئے دبدبہ قیصر و کسریٰ کا مٹا آج کی رات ( ١٩٨٤ء، زادہ سفر، ٣٦ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ ساخت اور معنی کے لحاظ سے بعنیہ اردو میں مستعمل ملتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
جنس: مذکر