دبکا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ڈانٹ پھٹکار، دھمکی۔ "اس کی باتوں میں واشنگٹن ڈی سی کا دبکا تھا۔"      ( ١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١٤٦ ) ٢ - چوہوں کو مارنے کا آلہ جو چکی کے پاٹ کے مشابہ مٹی سے بنایا جاتا ہے۔  ہیں میاں ٹکس غضب کے بڑے مخبر ہیں یہ سب کے بڑھے چوہے نئے ڈھب کے یہ لگائے گئے دبکے      ( ١٨٧٣ء، کلیات قدر، ٧٣٣ )

اشتقاق

پراکرت زبان سے ماخوذ اردو مصدر 'دبکنا' سے حاصل مصدر 'دبکا' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٧٣ء سے "کلیات قدر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ڈانٹ پھٹکار، دھمکی۔ "اس کی باتوں میں واشنگٹن ڈی سی کا دبکا تھا۔"      ( ١٩٨١ء، راجہ گدھ، ١٤٦ )

اصل لفظ: دب
جنس: مذکر