دبکانا
معنی
١ - دبانا، ڈرانا، دھمکانا۔ ڈپٹ لیتا ہے جب کچھ عرض حال اپنا کیا چاہے غریبب عاشق کے دبکانے کی خوب آتی ہے داب اوس کوں ( ١٧١٨ء، دیوان، آبرو، ٣٣ ) ٢ - چھپانا، ڈھانپنا، سمٹانا۔ "بچا ہوا کھانا ٹوکرے کے نیچے رکھ دیا اور برتن اناج کی کوٹھی میں دبکا دیے" ( ١٩٤٠ء، پریوں کی ہنڈیا، ٢٥ )
اشتقاق
پراکرت سے ماخوذ لفظ 'دب' کے ساتھ 'ک' بطور لاحقۂ کیفیت لگا کر 'نا' بطور لاحقۂ مصدر لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوان آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - چھپانا، ڈھانپنا، سمٹانا۔ "بچا ہوا کھانا ٹوکرے کے نیچے رکھ دیا اور برتن اناج کی کوٹھی میں دبکا دیے" ( ١٩٤٠ء، پریوں کی ہنڈیا، ٢٥ )