دبکنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - چھپنا، پوشیدہ ہونا۔  کمرے کی تپی تپی انگیٹھی سے فضا وہ نرم لحافوں میں دبکنے کی ادا      ( ١٩٨٢ء، تارگریباں، ٥٨ ) ٢ - ڈریا ڈانٹ ڈپٹ سے سہم جانا یا سمٹ جانا۔ "وہ دیوار کے درمیان منہ چھپائے دبکی بیٹھی تھی"      ( ١٩٨٣ء، ڈنگو (ترجمہ)، ١٤٩ ) ١ - چاندی، سونے کے تار کو کوٹ کر چپٹا کرنا۔ "تار دبکنے کی بھی مشینیں نکل آئی ہیں"      ( ١٩٦٩ء، جنگ، کراچی، ٤ جون، ٣ )

اشتقاق

پراکرت کے لفظ 'دب' کے ساتھ 'ک' بطور لاحقۂ کیفیت لگا کر 'نا' بطور لاحقۂ مصدر لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٧١٨ء کو سودا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - ڈریا ڈانٹ ڈپٹ سے سہم جانا یا سمٹ جانا۔ "وہ دیوار کے درمیان منہ چھپائے دبکی بیٹھی تھی"      ( ١٩٨٣ء، ڈنگو (ترجمہ)، ١٤٩ ) ١ - چاندی، سونے کے تار کو کوٹ کر چپٹا کرنا۔ "تار دبکنے کی بھی مشینیں نکل آئی ہیں"      ( ١٩٦٩ء، جنگ، کراچی، ٤ جون، ٣ )