دتکارنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - حقارت سے دور کر دینا، جھڑکنا (خصوصاً کتے کو ہنکانا)۔ "رب فرمائے گا دتکارے پڑے رہو"      ( ١٩٢١ء، احمد رضا خاں، ترجمہ قرآن مجید، ٥٥٨ )

اشتقاق

آواز سے ماخوذ لفظ 'دت' کے ساتھ 'کار' بطور لاحقۂ کیفیت لگا کر 'نا' بطور لاحقۂ مصدر لگایا گیا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٧٢ء کو فغاں کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حقارت سے دور کر دینا، جھڑکنا (خصوصاً کتے کو ہنکانا)۔ "رب فرمائے گا دتکارے پڑے رہو"      ( ١٩٢١ء، احمد رضا خاں، ترجمہ قرآن مجید، ٥٥٨ )

اصل لفظ: دُت