دجلہ

قسم کلام: اسم معرفہ

معنی

١ - اس دریا کا نام جو عراق میں بغداد کے قریب سے بہتا ہے۔ "ایرانیوں نے دوطرفہ حملہ کیا ایک طرف تو وہ دجلہ و فرات کے کناروں سے شام کی طرف بڑھے اور دوسری طرف ایشیائے کوچک کی جانب آذابائیجان سے . اناطولیہ میں داخل ہو گئے"      ( ١٩٢٣ء، سیرت النبیۖ، ٥١٥:٣ ) ٢ - [ مجازا ]  دریا، جھیل۔ "مرزا غالب کے دیدۂ بینا کو 'قطرے' میں 'دجلہ' دکھائی دینے لگتا ہے"      ( ١٩٥٩ء، نبض دوراں، ١٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر 'دجل' کے آخر پر 'ہ' بطور لاحقہ نسبت لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٨٥٤ء، کو "کلیات ظفر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اس دریا کا نام جو عراق میں بغداد کے قریب سے بہتا ہے۔ "ایرانیوں نے دوطرفہ حملہ کیا ایک طرف تو وہ دجلہ و فرات کے کناروں سے شام کی طرف بڑھے اور دوسری طرف ایشیائے کوچک کی جانب آذابائیجان سے . اناطولیہ میں داخل ہو گئے"      ( ١٩٢٣ء، سیرت النبیۖ، ٥١٥:٣ ) ٢ - [ مجازا ]  دریا، جھیل۔ "مرزا غالب کے دیدۂ بینا کو 'قطرے' میں 'دجلہ' دکھائی دینے لگتا ہے"      ( ١٩٥٩ء، نبض دوراں، ١٢ )

اصل لفظ: دجل
جنس: مذکر