در
معنی
١ - دروازہ، پھاٹک۔ "باہر کے دالان میں بیچ کے در چھوڑ کے سنگ مرمر کا کہٹرا لگایا ہے" ( ١٩٠٣ء، چراغ، دہلی، ٣٢٧ ) ٢ - چوکھٹ، دہلیز، آستاز۔ ان کے در تک ہوئی پذیرائی جذب دل اور کار فرمائی ٣ - دالان یا دروازے کا ستون، کھمبا۔ "گھر کی پلی ہوئی بلی طوطے پر لپکی کالو کتا جو پرانی نواڑ سے دالان کے در سے بندھا ہوا تھا اس نے جٹکا دے کر نواڑ تڑا بلی پر چلا" ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نااہل پڑوس، ١٣ ) ٤ - پہاڑ کا راستہ، درّہ۔ "ان یورشوں کا مقصد درد انیال کے اس پار سلطنت عثمانیہ کا قیام نہ تھا" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٢٦:٣ ) ٦ - مضمون، باب کتاب۔ "یہ باغ خوش نما. مانند بہشتِ ارجمند کے آتھ در میں مرتب ہوا" ( ١٨٤٤ء، ترجمۂ گلستان، حسن علی، ١٠ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم مجرد ہے۔ اوستائی زبان اور سنسکرت زبان میں 'دوار' اس کے مترادف استعمال ہوتا ہے ١٥٦٤ء کو سب سے پہلے حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دروازہ، پھاٹک۔ "باہر کے دالان میں بیچ کے در چھوڑ کے سنگ مرمر کا کہٹرا لگایا ہے" ( ١٩٠٣ء، چراغ، دہلی، ٣٢٧ ) ٣ - دالان یا دروازے کا ستون، کھمبا۔ "گھر کی پلی ہوئی بلی طوطے پر لپکی کالو کتا جو پرانی نواڑ سے دالان کے در سے بندھا ہوا تھا اس نے جٹکا دے کر نواڑ تڑا بلی پر چلا" ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نااہل پڑوس، ١٣ ) ٤ - پہاڑ کا راستہ، درّہ۔ "ان یورشوں کا مقصد درد انیال کے اس پار سلطنت عثمانیہ کا قیام نہ تھا" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٥٢٦:٣ ) ٦ - مضمون، باب کتاب۔ "یہ باغ خوش نما. مانند بہشتِ ارجمند کے آتھ در میں مرتب ہوا" ( ١٨٤٤ء، ترجمۂ گلستان، حسن علی، ١٠ )