دراڑ
قسم کلام: اسم نکرہ
معنی
١ - شگاف، جھری، چاک، چھید، درز۔ "گلیشئر کی سطح میں کچھاؤ کی وجہ سے دراڑیں پیدا ہو جاتی ہیں" ( ١٩٦٤ء، رفیق، طبعی جغرافیہ، ٢٥٥ )
اشتقاق
پراکرت سے اردو میں داخل ہوا۔ اس زبان میں 'درار' استعمال ہوتا تھا جبکہ اردو میں دونوں طرح مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٥ء کو "محصنات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - شگاف، جھری، چاک، چھید، درز۔ "گلیشئر کی سطح میں کچھاؤ کی وجہ سے دراڑیں پیدا ہو جاتی ہیں" ( ١٩٦٤ء، رفیق، طبعی جغرافیہ، ٢٥٥ )
جنس: مؤنث