درایت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - عقل، دانش، دانائی۔ "درایت کی رو سے یہ بات قرین قیاس نہیں ہوتی"      ( ١٩٧٠ء، اردو سندھی کے لسانی روابط، ٦ ) ٢ - [ حدیث، علم رجال ]  کسی بات یا واقعہ کی تصدیق، طبعیت انسانی کے اقتضا، زمانے اور منسوب الیہ کے خصوصی حالات اور دوسرے قرائن سے عقلی طور پر کرنا۔ "ماہر حدیث کی ضرورت تھی جو روایت و درایت دونوں فنون میں قوی دستگاہ رکھتا ہو"      ( ١٩٧٦ء، مقالات کاظمی، ١٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے اردو میں سب سے پہلے ١٨٨٧ء کو "ساقی نامہ شقشقیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقل، دانش، دانائی۔ "درایت کی رو سے یہ بات قرین قیاس نہیں ہوتی"      ( ١٩٧٠ء، اردو سندھی کے لسانی روابط، ٦ ) ٢ - [ حدیث، علم رجال ]  کسی بات یا واقعہ کی تصدیق، طبعیت انسانی کے اقتضا، زمانے اور منسوب الیہ کے خصوصی حالات اور دوسرے قرائن سے عقلی طور پر کرنا۔ "ماہر حدیث کی ضرورت تھی جو روایت و درایت دونوں فنون میں قوی دستگاہ رکھتا ہو"      ( ١٩٧٦ء، مقالات کاظمی، ١٦ )

اصل لفظ: دری
جنس: مؤنث