دربار
معنی
١ - آستانہ، بارگاہ۔ "عامر بن شہر اب دربار رسالت سے واپس آیا تو اس کا دل نور اسلام سے معمور تھا" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢٧:٢ ) ٢ - بادشاہوں، امیروں یا بزرگوں کی مجلس۔ "یہ کلمات سنتے ہی سارا دربار تھرا سا گیا" ( ١٩٠٥ء، شوقین ملکہ، ١٦ ) ٣ - وہ محکمہ جہاں سے بادشاہ یا امیر کی جانب سے فیصلے یا فرامین جاری ہوتے ہیں۔ "اس خاندان کے افراد یکے بعد دیگرے مغلوں، اودھ کے درباروں اور آخر کار ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت میں منسلک رہے" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٧١:٣ ) ٤ - جشن شاہی، امیروں یا بادشاہوں کی مجلس۔ "وہ دربار میں شریک نہیں ہوئے" ( ١٩٣٨ء، حالات سرسید، ٨٩ ) ٥ - حاضری، حضوری، حاضر باشی۔ "محمود کو رشک ہوا یہاں تک کہ فرخی کا دربار بند کر دیا" ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم، ٧٨:١ ) ٩ - محل، قصر۔ "بادشاہ یا اس کے وزیر کے محل یا دربار کو 'باب' یار، آستانہ، یا 'دربارہ' کہنے کا رواج ترکیہ میں ایران سے منتقل ہوا" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٧٩٥:٣ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'در' کے ساتھ فارسی اسم ظرف مکاں 'بارگاہ' کی تخفیف 'بار' لگا کر اسم ظرف مکاں بنایا گیا ہے۔ اردو میں ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - آستانہ، بارگاہ۔ "عامر بن شہر اب دربار رسالت سے واپس آیا تو اس کا دل نور اسلام سے معمور تھا" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبی، ٢٧:٢ ) ٢ - بادشاہوں، امیروں یا بزرگوں کی مجلس۔ "یہ کلمات سنتے ہی سارا دربار تھرا سا گیا" ( ١٩٠٥ء، شوقین ملکہ، ١٦ ) ٣ - وہ محکمہ جہاں سے بادشاہ یا امیر کی جانب سے فیصلے یا فرامین جاری ہوتے ہیں۔ "اس خاندان کے افراد یکے بعد دیگرے مغلوں، اودھ کے درباروں اور آخر کار ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت میں منسلک رہے" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٧١:٣ ) ٤ - جشن شاہی، امیروں یا بادشاہوں کی مجلس۔ "وہ دربار میں شریک نہیں ہوئے" ( ١٩٣٨ء، حالات سرسید، ٨٩ ) ٥ - حاضری، حضوری، حاضر باشی۔ "محمود کو رشک ہوا یہاں تک کہ فرخی کا دربار بند کر دیا" ( ١٩٠٧ء، شعرالعجم، ٧٨:١ ) ٩ - محل، قصر۔ "بادشاہ یا اس کے وزیر کے محل یا دربار کو 'باب' یار، آستانہ، یا 'دربارہ' کہنے کا رواج ترکیہ میں ایران سے منتقل ہوا" ( ١٩٦٧ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٧٩٥:٣ )