درباری

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - دربار سے منسوب، دربار سے متعلق، دربار کا، جسے دربار میں بار حاصل ہو۔      "وزیر، امیر، درباری سب حاضر تھے"     رجوع کریں:   ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٢٤٩ ) ٢ - [ موسیقی ]  ایک راگنی کا نام۔ "یہ راگ.دربار میں گایا جاتا تھا اس لیے حکم ہوا کہ اسے درباری کہو"      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ١٨ ) ٣ - دروازہ کے آگے کی جگہ جہاں دربار لگایا جائے۔ "دروازے کو درباری کہتے جہاں تخت پر بیٹھ کر ملاقاتیں کرتے"      ( ١٩٥٨ء، عمر رفتہ، ١٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم 'دربار' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ نسبتی لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٧٨ء کو غواصی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دربار سے منسوب، دربار سے متعلق، دربار کا، جسے دربار میں بار حاصل ہو۔      "وزیر، امیر، درباری سب حاضر تھے"     رجوع کریں:   ( ١٩٨٥ء، طوبٰی، ٢٤٩ ) ٢ - [ موسیقی ]  ایک راگنی کا نام۔ "یہ راگ.دربار میں گایا جاتا تھا اس لیے حکم ہوا کہ اسے درباری کہو"      ( ١٩٦١ء، ہماری موسیقی، ١٨ ) ٣ - دروازہ کے آگے کی جگہ جہاں دربار لگایا جائے۔ "دروازے کو درباری کہتے جہاں تخت پر بیٹھ کر ملاقاتیں کرتے"      ( ١٩٥٨ء، عمر رفتہ، ١٨ )

اصل لفظ: دَرْبار