درز
معنی
١ - دراڑ، شگاف، جھری۔ "سورج . کی کرنیں دروازے کی درزوں سے چھن چھن کر اندر آ رہی تھیں"۔ ( ١٩٦٣ء، جاپانی لوک کتھائیں (ترجمہ)، ٢٤ ) ٢ - چہرے اور کھوپڑی کی ہڈیوں کا جوڑ۔ "مرکزی درز کے ٹھیک سامنے مگر اس کے ساتھ چلتا ہوا بھی دماغ کا حرکی رقبہ ہوتا ہے"۔ ( ١٨٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٤١ ) ٤ - شگاف،پھٹا ہوا حصہ "درز ایی سیے کہ ایک باریک دھاگا مفہوم ہو" ( ١٨٧٣ء، تہذیب النسا، ٤٠ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اردو میں داخل ہوا۔ اوستائی زبان میں اس کے لیے لفظ'دربز' ہے جبکہ فارسی میں 'درز' ہی استعمال ہوتا ہے لہٰذا قوی امکان یہی ہے کہ یہ فارسی سے اردو میں داخل ہوا ہو گا۔ سب سے پہلے اردو میں "جامع العلوم و حدائق الانوار" میں ١٢٠٩ء کو ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دراڑ، شگاف، جھری۔ "سورج . کی کرنیں دروازے کی درزوں سے چھن چھن کر اندر آ رہی تھیں"۔ ( ١٩٦٣ء، جاپانی لوک کتھائیں (ترجمہ)، ٢٤ ) ٢ - چہرے اور کھوپڑی کی ہڈیوں کا جوڑ۔ "مرکزی درز کے ٹھیک سامنے مگر اس کے ساتھ چلتا ہوا بھی دماغ کا حرکی رقبہ ہوتا ہے"۔ ( ١٨٦٩ء، نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)، ٤١ ) ٤ - شگاف،پھٹا ہوا حصہ "درز ایی سیے کہ ایک باریک دھاگا مفہوم ہو" ( ١٨٧٣ء، تہذیب النسا، ٤٠ )