درشتی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سختی، تندخوئی، خشونت۔ "یگانہ کی تحریروں میں درشتی، دل آزاری یہاں تک کہ بدکلامی بھی ملتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، نیم رخ، ١٦ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'درشت' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'درشتی' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٤٩ء سے "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سختی، تندخوئی، خشونت۔ "یگانہ کی تحریروں میں درشتی، دل آزاری یہاں تک کہ بدکلامی بھی ملتی ہے۔"      ( ١٩٨٦ء، نیم رخ، ١٦ )

اصل لفظ: دُرُشْت
جنس: مؤنث