درماندہ
معنی
١ - تھکا ماندہ، خستہ۔ "لوٹ آئے گی تیری نگاہ درماندہ ہونے کی حالت میں تھک کر۔" ( ١٩٧٤ء، مقالات کاظمی، ٣٢ ) ٢ - عاجز، مجبور، بے بس، لاچار؛ نادار۔ قافلے ہیں کتنے درماندہ خرام گرد، راہوں سے نہ منزل سے اٹھی ( ١٩٨١ء، چراغِ صحرا، ٨٢ ) ٣ - مصیبت زدہ، خستہ و خراب، بدحال۔ "میں پھر یقین دہانی چاہتی تھی کہ مجھے درماندہ چھوڑ تو نہیں دیا جائے گا۔" ( ١٩٨٢ء، میرے )
اشتقاق
فارسی مصدر 'درماندن' سے صیغہ حالیہ تمام 'درماندہ' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٠٩ء سے "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تھکا ماندہ، خستہ۔ "لوٹ آئے گی تیری نگاہ درماندہ ہونے کی حالت میں تھک کر۔" ( ١٩٧٤ء، مقالات کاظمی، ٣٢ ) ٣ - مصیبت زدہ، خستہ و خراب، بدحال۔ "میں پھر یقین دہانی چاہتی تھی کہ مجھے درماندہ چھوڑ تو نہیں دیا جائے گا۔" ( ١٩٨٢ء، میرے )