درگا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - [ ہندو ]  ایک ہیبت ناک اور غصہ ور دیوی اسے اما بھوانی اور کالی یاکا لکا اور پاربتی وغیرہ بھی کہتے ہیں۔ ہندو اس کی پرستش کرتے ہیں اور اس پر بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ ہر سال درگاہ پوجا کا تیوہار مناتے ہیں۔ "یہ لوگ ہیبت ناک دیوی درگا کو قربانیاں پیش کرتے ہیں۔"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطٰی کی ایک جھلک، ٦٢ ) ٢ - [ ٹھگی ]  شاما چڑیا کی بولی یا اس کو دیکھنے کے شگون کو کہتے ہیں۔ (ٹھگوں کے نزدیک یہ شگون بڑا معتبر ہے)۔ (مصلحات ٹھگی، 91)

اشتقاق

اصلاً سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ اردو میں اپنے اصل معنی اور حالت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٦٨ء سے "رسوم ہند" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - [ ہندو ]  ایک ہیبت ناک اور غصہ ور دیوی اسے اما بھوانی اور کالی یاکا لکا اور پاربتی وغیرہ بھی کہتے ہیں۔ ہندو اس کی پرستش کرتے ہیں اور اس پر بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ ہر سال درگاہ پوجا کا تیوہار مناتے ہیں۔ "یہ لوگ ہیبت ناک دیوی درگا کو قربانیاں پیش کرتے ہیں۔"      ( ١٩٥٨ء، ہندوستان کے عہد وسطٰی کی ایک جھلک، ٦٢ )

اصل لفظ: درگا
جنس: مؤنث