دریچہ

قسم کلام: اسم تصغیر

معنی

١ - کھڑکی، چھوٹا دروازہ، موکھا۔  خلوت کی فضا میں دھیرے دھیرے نشوں کے دریچے کھل رہے تھے      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ٤٨ ) ٢ - چھوٹا دریا بغیر پٹ کا چھوٹا دروازہ۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 128:1)

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد 'در' سے 'دری' ماخوذ ہے جس کے آخر پر 'چہ' بطور لاحقۂ تسغیر لگایا گیا ہے۔ اردو میں ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: دَر
جنس: مذکر