دزدیدہ
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - چوری کا، چرایا ہوا۔ کون کہتا کہ آنگن میں نہ اترا سورج کیا یہی ساعت دزدیدہ ترے نام نہیں ( ١٩٨٢ء، ساز سخن بہانہ، ١٣٢ ) ٢ - چھپا ہوا، پوشیدہ، چوری چھپے۔ دیکھ لیتے ہیں کنکھیوں سے کبھی وہ بزم میں ان کی دزدیدہ عنایت اس قدر ہو بھی تو کیا ( ١٩٣٢ء، بے نظیر شاہ، کلام بے نظیر، ٣٢ )
اشتقاق
فارسی مصدر 'دزدیدن' سے صیغہ حالیہ تمام 'دزدیدہ' اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٧٨٤ء سے "دیوان درد" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: دزدیدن