دس

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - دہائی کا پہلا عدد، نو اور ایک، ایک کم گیارہ، (ہندسوں میں) 10۔ "اس نظام (اعشاری نظام) کی اساس دس پر ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، ماڈل کمپیوٹر بنائیے۔ ١٥ ) ٢ - کئی، متعدد؛ چند، کچھ۔ "ہر روز عمیرہ کو . دس بری اور دس ہی اچھی خبریں ملتیں۔"      ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما (ترجمہ)، ٥٠١ )

اشتقاق

پراکرت سے اردو میں داخل ہوا۔ پراکرت میں 'دش' بھی مستعمل تھا اور 'دس' بھی لکھا جاتا ہے۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ مستعمل ہوا۔ سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دہائی کا پہلا عدد، نو اور ایک، ایک کم گیارہ، (ہندسوں میں) 10۔ "اس نظام (اعشاری نظام) کی اساس دس پر ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، ماڈل کمپیوٹر بنائیے۔ ١٥ ) ٢ - کئی، متعدد؛ چند، کچھ۔ "ہر روز عمیرہ کو . دس بری اور دس ہی اچھی خبریں ملتیں۔"      ( ١٩٤٣ء، تاریخ الحکما (ترجمہ)، ٥٠١ )