دست
معنی
١ - ہاتھ، پنجہ۔ یہ پیالہ ہے کہ دل ہے یہ شراب ہے کہ جاں ہے یہ درخت ہیں کہ سائے کسی دست مہرباں کے ( ١٩٧٠ء، برش قلم، ٤٨ ) ٢ - چوپائے کے اگلے دو پاؤں دست کہلاتے ہیں۔ "دست کا گوشت بہت پسند تھا۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ) ٣ - (مرغان شکاری کے لیے تعداد کے اظہار کے موقع پر) جیسے: یک دست باز، یک دست جرہ وغیرہ۔ "جرہ اور شاہین وغیرہ کو دست کے لفظ کے ساتھ لکھتے ہیں۔" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٣٠٣ ) ٥ - [ پیمائش ] شاہ جہاں کے زمانے کا پیمانہ، ایک ماپ۔ "آٹھ جو کا ایک انگشت اور چوبیس انگشت کا ایک دست اور چار دست کا ایک دند۔" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٣٠٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں فارسی سے ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - چوپائے کے اگلے دو پاؤں دست کہلاتے ہیں۔ "دست کا گوشت بہت پسند تھا۔" ( ١٩١٤ء، سیرۃ النبیۖ، ) ٣ - (مرغان شکاری کے لیے تعداد کے اظہار کے موقع پر) جیسے: یک دست باز، یک دست جرہ وغیرہ۔ "جرہ اور شاہین وغیرہ کو دست کے لفظ کے ساتھ لکھتے ہیں۔" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٣٠٣ ) ٥ - [ پیمائش ] شاہ جہاں کے زمانے کا پیمانہ، ایک ماپ۔ "آٹھ جو کا ایک انگشت اور چوبیس انگشت کا ایک دست اور چار دست کا ایک دند۔" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٣٠٤ )