دستار

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - پگڑی، عمامہ، منڈاسا، سر پیچ۔ "عدل کا جامہ، جبا کا کمر بند، شجاعت کا دستار، عنایت کا دوپٹہ اڑا کر میرے معشوق کوں لیاؤ"۔     "دستار عزت،بہادری اور شجاعت کی علامت سمجھی جاتی ہے"۔      ( ١٤٢١ء، معراج العاشقین، خواجہ بندہ نواز، ٢٥ )( ١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ٧٣ )

اشتقاق

فارسی زبان میں 'دست' کے ساتھ 'ار' لاحقہ اسمیت لگا کر'دستار' بنایا گیا ہے اردو میں مستعمل ہے سب سے پہلے ١٤٢١ء کو "معراج العاشقین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پگڑی، عمامہ، منڈاسا، سر پیچ۔ "عدل کا جامہ، جبا کا کمر بند، شجاعت کا دستار، عنایت کا دوپٹہ اڑا کر میرے معشوق کوں لیاؤ"۔     "دستار عزت،بہادری اور شجاعت کی علامت سمجھی جاتی ہے"۔      ( ١٤٢١ء، معراج العاشقین، خواجہ بندہ نواز، ٢٥ )( ١٩٨٢ء، پٹھانوں کے رسم و رواج، ٧٣ )