دشنام

قسم کلام: اسم مجرد ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - گالی، برا بھلا۔  اب تو اس زہر کی اک بوند بھی مجھ پر ہے حرام دیکھو اب قرض کی مے کا نہیں حاصل دشنام      ( ١٩٨٤ء، سمندر، ١٩٧ )

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب پہلے ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔