دغا

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - توقع کے خلاف دھوکا دینے یا مکاری کرنے کا عمل، فریب، دم، جھانسا، جل، مکر، بے ایمانی۔ "وہ عاقلہ بولی کہ تم جانو لیکن پھر کچھ دغا کیا چاہتے ہیں۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٥٥ ) ٢ - وقت پر ساتھ نہ دینے یا رفاقت نہ کرنے کا عمل، بے مروتی (کسی ضرورت یا مجبوری کے تحت)۔ "میری آنکھیں میرے ساتھ دغا کرتی ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ١١٠ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق 'دغل' کی مفرس صورت ہے۔ فارسی سے اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - توقع کے خلاف دھوکا دینے یا مکاری کرنے کا عمل، فریب، دم، جھانسا، جل، مکر، بے ایمانی۔ "وہ عاقلہ بولی کہ تم جانو لیکن پھر کچھ دغا کیا چاہتے ہیں۔"      ( ١٨٠٢ء، باغ و بہار، ١٥٥ ) ٢ - وقت پر ساتھ نہ دینے یا رفاقت نہ کرنے کا عمل، بے مروتی (کسی ضرورت یا مجبوری کے تحت)۔ "میری آنکھیں میرے ساتھ دغا کرتی ہیں۔"      ( ١٩٨٤ء، زمین اور فلک اور، ١١٠ )

اصل لفظ: دغل
جنس: مذکر