دفان
معنی
١ - نکال دینا، دور کرنا، ہٹا دینا (تحقیر، تنفّر یا عتاب کے موقع پر) "پیرو نے کہا، اب تو سب بوڑھے دفان ہوگئے اب تو تمہارا اپنا اختیار ہے۔" ( ١٩٨٣ء، سفر مینا، ١٤٧ ) ٢ - خیال چھوڑنا، صرف نظر کرنا،۔ پس پشت ڈالنا (تحقیر وغیرہ کی بنا پر)۔ "خلیفہ جی ہاں دفان کیجیے، دیکھیے ایک اور معاملہ ہے اسے دیکھ لیجیے۔" ( ١٩٠٠ء، ذات شریف، ٣٤ )
اشتقاق
عربی زبان سے مشتق اسم 'دفع' کی 'ع' حذف کر کے 'ا ن' بطور لاحقۂ اسمیت لگانے سے 'دَفان' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٨٨٧ء سے "جامِ سرشار" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - نکال دینا، دور کرنا، ہٹا دینا (تحقیر، تنفّر یا عتاب کے موقع پر) "پیرو نے کہا، اب تو سب بوڑھے دفان ہوگئے اب تو تمہارا اپنا اختیار ہے۔" ( ١٩٨٣ء، سفر مینا، ١٤٧ ) ٢ - خیال چھوڑنا، صرف نظر کرنا،۔ پس پشت ڈالنا (تحقیر وغیرہ کی بنا پر)۔ "خلیفہ جی ہاں دفان کیجیے، دیکھیے ایک اور معاملہ ہے اسے دیکھ لیجیے۔" ( ١٩٠٠ء، ذات شریف، ٣٤ )