دفع

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - دور کرنے، خارج کرنے یا زائل کرنے کا عمل، نکالنا، ہٹانا۔  کربلا جس کا بیاں دفع ہر بلا کربلا جس میں حسینی نام کا سکہ ڈھلا      ( ١٩٨١ء، شہادت، ٤١ ) ٢ - سائنسی مل میں کمیاوی اور طبیعیاتی بچا، حفاظت، مزاحمت۔ "دو مشابہ چارجوں کے درمیان دفع کی قوتوں سے اس ساخت کی توانائی کافی حد تک بڑھ جاتی ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، نامیاتی کیمیا، ٦٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مشتق ہے۔ ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٧٨ء کو غواصی کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - سائنسی مل میں کمیاوی اور طبیعیاتی بچا، حفاظت، مزاحمت۔ "دو مشابہ چارجوں کے درمیان دفع کی قوتوں سے اس ساخت کی توانائی کافی حد تک بڑھ جاتی ہے۔"      ( ١٩٨٠ء، نامیاتی کیمیا، ٦٦ )

اصل لفظ: دفع
جنس: مذکر