دفن

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - مردے کے قبر میں گاڑے جانے کا عمل، تجہیز و تکفین۔ "پورے فوجی اعزاز کے ساتھ اس کو (ایک فوجی کپتان) دفن کیا گیا۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٧٢ ) ٢ - کسی بھی چیز کے زمین میں گاڑے جانے کا عمل۔ "اس نے . دیکھا کہ ایک نہیں بلکہ دو مٹی کے دفن ہیں۔"      ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں (ترجمہ)، ٨ )

اشتقاق

عربی زبان سے ثلاثی مجرد کے باب سے مصدر ہے۔ اردو میں بطور حاصل مصدر مستعمل ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٨ء کو "چندر بدن و مہیار" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مردے کے قبر میں گاڑے جانے کا عمل، تجہیز و تکفین۔ "پورے فوجی اعزاز کے ساتھ اس کو (ایک فوجی کپتان) دفن کیا گیا۔"      ( ١٩٨١ء، سفر در سفر، ٧٢ ) ٢ - کسی بھی چیز کے زمین میں گاڑے جانے کا عمل۔ "اس نے . دیکھا کہ ایک نہیں بلکہ دو مٹی کے دفن ہیں۔"      ( ١٩٧٨ء، براہوی لوک کہانیاں (ترجمہ)، ٨ )

اصل لفظ: دفن
جنس: مذکر