دل

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سینے کے اندر قدرے بائیں جانب الٹے پان سے ملتی ہوئی شکل کا ایک عضو جس کی حرکت پر خون کی گردش کا مدار ہے، یہ مرکب ہے گوشت و عصب و لیف و غشاء سخت سے اور سرچشمہ ہے حرارت غریزی اور روح حیوانی کا، اسی کی حرکت کے بند ہونے سے موت واقع ہو جاتی ہے، قلب۔ "دل، صدری کہفہ میں پھیپھڑوں کے خانوں کے درمیان کی جگہ . میں قدرے بائیں جانب واقع ہوتا ہے۔ یہ شکل میں تکونا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، معیاری حیوانیات، ٢٤٢:١ ) ٢ - خاطر، ضمیر، باطن، جی، قلب۔  امید اس ذات اقدس کی بدولت دلوں میں سوز آنکھوں میں نمی ہے      ( ١٩٨٤ء، مرے آقا، ٦٣ ) ٣ - دھیان، توجہ، خیال۔  میہمان ہوتے نہیں جس روز آپ ہر جگہ جاتا ہے سو سو بار دل      ( ١٨٩٢ء، وحید الٰہ آبادی، انتخاب وحید، ٧٩ ) ٥ - احساس، جذبات۔ "جس دل سے تم کو رخصت کر رہی ہوں وہ بیٹی والوں کے دل جان سکتے ہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٣٦ ) ٧ - درمیان، وسط۔  قید ہو کتنے ہی پردوں کے حرم میں سورج صبح پھوٹے کی بہر حال دل مشرق سے      ( ١٩٧٩ء، جزیرہ، ١٠٨ ) ٨ - سخاوت، فیاضی۔ "اس عمر میں وہ دل ہے کہ میں نے اتنی عمر میں دیکھا نہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ) ٩ - مرضی، خواہش، رغبت  مار ڈالا اس ادا نے منہ بنانے کی تری کیوں دیا بوسہ اگر دینے کو تیرا دل نہ تھا      ( ١٧٩٥ء، دل عظیم آبادی، دیوان، ١٣ ) ١٠ - مزاج، طبیعت۔  مرا دل، میری طبیعت کوئی لائے گا کہاں سے نہ میں کارواں میں گم ہوں نہ الگ ہوں کارواں سے      ( ١٩٧٩ء، جزیرہ، ١٢٤ ) ١١ - مرکز، محور، مرجع۔  اے مسلماں ملت اسلام کا دل ہے یہ شہر سیکڑوں صدیوں کی کشت و خوں کا حاصل ہے یہ شہر      ( ١٩٢٤ء، بانگ درا، ١٥٧ ) ١٢ - [ تصوف ]  لطیفۂ زبانی اور روحانی کو کہتے ہیں اور اسی کو حقیقت انسانی بھی کہتے ہیں کہ جو مدرک اور عالم اور عاشق اور عارف اور مخاطب اور معاتب ہے جس شخص نے کہ دل کو پایا اس نے حق کو پایا اور بعض لوگ منظر باری بھی کہتے ہیں۔ (مصباح التعرف، 118)

اشتقاق

فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ فارسی سے اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٢٦٥ء کو "بابا فرید گنج شکر کے ہاں بحوالہ "اردو کی ابتدائی نشودنما میں صوفیائے کرام کا کام" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سینے کے اندر قدرے بائیں جانب الٹے پان سے ملتی ہوئی شکل کا ایک عضو جس کی حرکت پر خون کی گردش کا مدار ہے، یہ مرکب ہے گوشت و عصب و لیف و غشاء سخت سے اور سرچشمہ ہے حرارت غریزی اور روح حیوانی کا، اسی کی حرکت کے بند ہونے سے موت واقع ہو جاتی ہے، قلب۔ "دل، صدری کہفہ میں پھیپھڑوں کے خانوں کے درمیان کی جگہ . میں قدرے بائیں جانب واقع ہوتا ہے۔ یہ شکل میں تکونا ہوتا ہے۔"      ( ١٩٨٤ء، معیاری حیوانیات، ٢٤٢:١ ) ٥ - احساس، جذبات۔ "جس دل سے تم کو رخصت کر رہی ہوں وہ بیٹی والوں کے دل جان سکتے ہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، ٢٣٦ ) ٨ - سخاوت، فیاضی۔ "اس عمر میں وہ دل ہے کہ میں نے اتنی عمر میں دیکھا نہیں۔"      ( ١٩٠٨ء، صبح زندگی، )

جنس: مذکر