دلارا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پیارا بیٹا۔  پھر صبر میں طوفان ملال آنے لگا تھا زینب کے دلاروں کا خیال آنے لگا تھا      ( ١٩٨١ء، شہادت، ١٦٥ ) ١ - پیارا، عزیز، لاڈلا۔  بھگوانوں کے پیارے ہیں دھن والوں کی مت پوچھو اندر کے دلارے ہیں اندرا کے چہتے ہیں      ( ١٩٧٨ء، فکر جمیل، ١٢٠ )

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ مصدر 'دلارنا' سے حاصل مصدر 'دلار' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے 'دلارا' بنا۔ اردو میں بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩٠١ء سے "جنگل میں منگل" میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: دُلارنا
جنس: مذکر