دلاسا
قسم کلام: اسم مجرد ( مذکر، مؤنث - واحد )
معنی
١ - تسلی، تشفی، تسکین۔ "جیسے ڈھارس بندھانا چاہتی ہو جیسے ہمت بڑھا رہی ہو جیسے دلاسہ دینا چاہتی ہو۔" ( ١٩٨٦ء، نگار، کراچی، جولائی، ٤٨ )
اشتقاق
فارسی زبان میں (دل + آس) کے ساتھ 'ا' بطور لاحقۂ فاعلی لگانے سے 'دِلاسا' بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٥٩١ء سے "قصہ گل و صنوبر" کے قلمی نسخہ میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - تسلی، تشفی، تسکین۔ "جیسے ڈھارس بندھانا چاہتی ہو جیسے ہمت بڑھا رہی ہو جیسے دلاسہ دینا چاہتی ہو۔" ( ١٩٨٦ء، نگار، کراچی، جولائی، ٤٨ )