دلاویزی

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - دلکشی، دلربائی، دل آویزی۔ "میری نگاہ کے سوا اور کوئی نگاہ اس مرقع کی دلاویزی نہیں دیکھ سکے گی۔"      ( ١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'دِلاویز' کے بعد 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے 'دِلاویزی" بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩٢٦ء سے "طلیحہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دلکشی، دلربائی، دل آویزی۔ "میری نگاہ کے سوا اور کوئی نگاہ اس مرقع کی دلاویزی نہیں دیکھ سکے گی۔"      ( ١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ١٥ )

اصل لفظ: دِلاویز
جنس: مؤنث