دلدر
معنی
١ - فقر و فاقہ کشی کی حالت، افلاس، تنگ دستی، بد حالی۔ ہزار کوس دلدر وہیں کھسک جاوے کبھی جو اس کے دبے پاؤں کی سنے آہٹ ( ١٨١٨ء، انشاء، کلیات، ٦٦٢ ) ١ - نحس یا منحوس شے یا وہ شخص جس پر نحوست برستی ہو، میلا کچیلا آدمی، خوار و خستہ۔ "تم جیسے دلدروں کے ساتھ ایسی ہی کرنی چاہیے۔" ( ١٩٣٠ء، مضامین فرحت، ١٣٩:٢ ) ٢ - میلا، پرانا، خراب، بوسیدہ۔ "یہ کہہ کر میر صاحب نے جیب میں سے پرانا دلدر بٹوہ نکالا۔" ( ١٩٥٤ء، پیر نابالغ، ٢ ) ٣ - غریب، مفلس، کم حیثیت، بدحال، کم تر درجے کا۔ "ہم دلدر سہی کسی سے مانگنے تو نہیں جاتے۔" ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٢١:١ )
اشتقاق
سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم اور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٦٣٩ء سے "طوطی نامہ، غواصی" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - نحس یا منحوس شے یا وہ شخص جس پر نحوست برستی ہو، میلا کچیلا آدمی، خوار و خستہ۔ "تم جیسے دلدروں کے ساتھ ایسی ہی کرنی چاہیے۔" ( ١٩٣٠ء، مضامین فرحت، ١٣٩:٢ ) ٢ - میلا، پرانا، خراب، بوسیدہ۔ "یہ کہہ کر میر صاحب نے جیب میں سے پرانا دلدر بٹوہ نکالا۔" ( ١٩٥٤ء، پیر نابالغ، ٢ ) ٣ - غریب، مفلس، کم حیثیت، بدحال، کم تر درجے کا۔ "ہم دلدر سہی کسی سے مانگنے تو نہیں جاتے۔" ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٢١:١ )