دلنا

قسم کلام: فعل متعدی

معنی

١ - موٹا موٹا پیسنا، دردار کرنا، غلے وغیرہ کے دانوں کو چکی کے ذریعے نصف نصف کرنا، مطلقاً پیسنا۔ "چنے کی دال میں دلنے سے چھلکا بھی علیحدہ ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، مشرقی مغربی کھانے، ٢٤ ) ٢ - تباہ کرنا، برباد کرنا، رگیدنا، رگڑنا، مار ڈالنا۔ "مس طاس نے کہا کہ مس عنبرین تم تو اپنی محبت اور رفاقت میں مجھے دلے ڈالتی ہو۔"      ( ١٩٣٠ء، مس عنبرین، ٣٠ ) ٣ - مسلنا، ملنا، مالش کرنا۔ "کیونکہ وہ طبیعتاً فیض رساں واقع ہوا تھا اس لیے رگ پٹھے کھولنے کے بہانے وانگ لنگ کی پیٹھ کو دل ڈالا۔"      ( ١٩٤١ء، پیاری زمین، ١٢ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ'دلت' سے ماخوذ مصدر 'دلنا' ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٧٩ء کو "دیوان شاہ سلطان ثانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - موٹا موٹا پیسنا، دردار کرنا، غلے وغیرہ کے دانوں کو چکی کے ذریعے نصف نصف کرنا، مطلقاً پیسنا۔ "چنے کی دال میں دلنے سے چھلکا بھی علیحدہ ہو جاتا ہے۔"      ( ١٩٣٢ء، مشرقی مغربی کھانے، ٢٤ ) ٢ - تباہ کرنا، برباد کرنا، رگیدنا، رگڑنا، مار ڈالنا۔ "مس طاس نے کہا کہ مس عنبرین تم تو اپنی محبت اور رفاقت میں مجھے دلے ڈالتی ہو۔"      ( ١٩٣٠ء، مس عنبرین، ٣٠ ) ٣ - مسلنا، ملنا، مالش کرنا۔ "کیونکہ وہ طبیعتاً فیض رساں واقع ہوا تھا اس لیے رگ پٹھے کھولنے کے بہانے وانگ لنگ کی پیٹھ کو دل ڈالا۔"      ( ١٩٤١ء، پیاری زمین، ١٢ )

اصل لفظ: دلت