دلیر
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - خوف، جھجک یا ہچکچاہٹ کے بغیر کسی کام یا اقدام پر آمادہ، نڈر، جرأت یا بے باکی سے کام لینے والا، بے جھجک، بے باک۔ "وہ ایک دلیر عورت ہے۔" ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٤٦ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خوف، جھجک یا ہچکچاہٹ کے بغیر کسی کام یا اقدام پر آمادہ، نڈر، جرأت یا بے باکی سے کام لینے والا، بے جھجک، بے باک۔ "وہ ایک دلیر عورت ہے۔" ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٤٦ )