دلیری
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - دلیر کا اسم کیفیت، بے باکی، بے خوفی، شجاعت، بہادری۔ "جب بزدل سامنے سے ٹل گیا تو دلیری صابون کی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گی۔" ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٤٦ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دلیر' کے ساتھ 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دلیر کا اسم کیفیت، بے باکی، بے خوفی، شجاعت، بہادری۔ "جب بزدل سامنے سے ٹل گیا تو دلیری صابون کی جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گی۔" ( ١٩٨٦ء، اوکھے لوگ، ١٤٦ )
اصل لفظ: دِلیر
جنس: مؤنث