دماغی

قسم کلام: صفت نسبتی

معنی

١ - دماغ سے نسبت رکھنے والا، دماغ کی طرف منسوب، دماغ کا۔ "انھوں نے اپنے قواے ذہنیہ کو محض دماغی ریاضت اور لگاتار غور و فکر سے بتدریج ترقی دی تھی۔"      ( ١٩٣٨ء، حالات سرسید، ٣ ) ٢ - [ عورات ]  مغرور، متکبر، بد دماغ؛ شیخی باز۔ "تیں کہے گی کہ یہ شخص بڑا دماغی ہے اور دماغ کر کے میری بات نہ سنا۔"      ( ١٨٠٠ء، گل و ہرمز، ٣٠ (الف) )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم مجرد 'دماغ' کے ساتھ فارسی قاعدے کے تحت 'ی' بطور لاحقۂ نسبت لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٨٠٠ء کو "گل و ہرمز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دماغ سے نسبت رکھنے والا، دماغ کی طرف منسوب، دماغ کا۔ "انھوں نے اپنے قواے ذہنیہ کو محض دماغی ریاضت اور لگاتار غور و فکر سے بتدریج ترقی دی تھی۔"      ( ١٩٣٨ء، حالات سرسید، ٣ ) ٢ - [ عورات ]  مغرور، متکبر، بد دماغ؛ شیخی باز۔ "تیں کہے گی کہ یہ شخص بڑا دماغی ہے اور دماغ کر کے میری بات نہ سنا۔"      ( ١٨٠٠ء، گل و ہرمز، ٣٠ (الف) )

اصل لفظ: دِماغ