دمیدہ

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - چلتا ہوا، جاری، رواں دواں۔  اگ آہِ پیچیدہ و تپیدہ زمیں کے سینے میں ناکشیدہ نجانے کیوں کر ہوئی دمیدہ بوئے گل بن کے مسکرائی      ( ١٩٦٦ء، فکر جمیل، ١٥٢ ) ٢ - پھونکا ہوا۔  کیوں کر پَرِ مَلَک نہ جلیں میری آہ سے نالہ نہیں یہ حشر کا پر دسیدہ ہے      ( ١٨٦١ء، کلیات اختر، ٦٩٥ ) ٣ - اگا ہوا، پھوٹا ہوا، کھلا ہوا، کھلنے والا، ظاہر، نمودار۔ "ہزار گل مدعا چمن میں دلہائے خلائق کے دمیدہ ہوتے تھے۔"      ( ١٨٩٠ء، بوستان خیال، ٢٠:٤ ) ٤ - ظاہر، نمودار؛ آغاز، سپیدۂ سحر۔  سفید بال ہوئے شب ہوئی جوانی کی دمیدہ صبح ہوئی چونک سر پہ دھوپ آئی      ( ١٨٧٨ء، سخن بے مثال، ١١٩ ) ٥ - بڑھا ہوا، پھیلا ہوا۔  چشم اشک آفریں کو کیا کہیے جام لبریز ہے دمیدۂ شوق      ( ١٩٣٥ء، ناز (علی نواز) گلدستۂ ناز، ١٠٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مشتق اسم صفت ہے۔ فارسی، مصدر 'دمیدن' سے حالیہ تمام ہے اردو میں ١٨١٨ء کو انشا کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - اگا ہوا، پھوٹا ہوا، کھلا ہوا، کھلنے والا، ظاہر، نمودار۔ "ہزار گل مدعا چمن میں دلہائے خلائق کے دمیدہ ہوتے تھے۔"      ( ١٨٩٠ء، بوستان خیال، ٢٠:٤ )

اصل لفظ: دَمِیدَن