دند
معنی
١ - غریب، مفلس، حاجت مند (عموماً غذا کا)، جاہل، بے وقوف؛ بہادر، دلیر؛ بے ایمان؛ بے ضمیر؛ لامذہب (شاذ)۔ (جامع اللغات؛ پلیٹس) ١ - دانت "ایسے گیروں کی ضرورت ہے جن کے دندوں میں آدھا فرق ہو۔" ( ١٩٤٩ء، موٹر انجینئر، ٧٦ ) ٢ - جولاہوں کا ایک دانے دار اوزار، جولاہے کی مشین کا وہ بیرم جو دھرے کو فشارے سے جوڑتا ہے۔ (پلیٹس؛ جامع اللغات) ٣ - [ پیمائش ] ایک ماپ جو چار ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔ "چوبیس انگشت کا ایک دست اور چار دست کا ایک دند" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٣٠٤ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا اردو میں سب سے پہلے ١٥٣٧ء کو حکیم یوسفی کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دانت "ایسے گیروں کی ضرورت ہے جن کے دندوں میں آدھا فرق ہو۔" ( ١٩٤٩ء، موٹر انجینئر، ٧٦ ) ٣ - [ پیمائش ] ایک ماپ جو چار ہاتھ کے برابر ہوتا ہے۔ "چوبیس انگشت کا ایک دست اور چار دست کا ایک دند" ( ١٨٧٣ء، مطلع العجائب (ترجمہ)، ٣٠٤ )