دنگ
قسم کلام: صفت ذاتی
معنی
١ - حیران، ہکا بکا۔ "چند لمحوں کے لیے میری عقل دنگ رہ گئی۔" ( ١٩٨٦ء، دریا کے سنگ، ٧ ) ٢ - بے وقوف، احمق؛ دیوانہ، مجنوں، پاگل؛ لاپروا، بے حس؛ دوپتھروں کے ٹکرانے کی آواز؛ قلندروں کی آواز۔ (جامع اللغات؛ پلیٹس)
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد ہے فارسی سے اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو حسن شوقی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - حیران، ہکا بکا۔ "چند لمحوں کے لیے میری عقل دنگ رہ گئی۔" ( ١٩٨٦ء، دریا کے سنگ، ٧ )