دنگا

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - لڑائی، جھگڑا۔ "وہ سالی دنگا مچائے گی پہلے اس کا معاملہ ذرا ٹھنڈا پڑ جانے دو۔"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٢٣ ) ٢ - شرارت، توڑ، پھوڑ، خرابی۔ "اس اثنا میں بچوں نے دنگا شروع کر دیا ایک نے محلے میں پتھر پھینکے دوسرے نے مٹکوں میں ہاتھ کھنگول دیے۔"      ( ١٩٦٠ء، ماہ نو، کراچی، مئی) ٤٩ ) ٣ - ہنگامہ، بغاوت، سرکشی۔ "کلوں کے رواج سے خفا ہو کر آدمیوں نے سرکشی اور دنگا کیا تھا۔"      ( ١٨٨٠ء، رام چندر (ماسٹر رام چندر) ١٢٠ )

اشتقاق

پراکرت سے اردو میں داخل ہوا۔ اردو میں عربی رسم الخط کے ساتھ لکھا جانے لگا۔ اردو میں ١٨٦٧ء کو "اردو کی پہلی کتاب" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لڑائی، جھگڑا۔ "وہ سالی دنگا مچائے گی پہلے اس کا معاملہ ذرا ٹھنڈا پڑ جانے دو۔"      ( ١٩٦٢ء، معصومہ، ٢٣ ) ٢ - شرارت، توڑ، پھوڑ، خرابی۔ "اس اثنا میں بچوں نے دنگا شروع کر دیا ایک نے محلے میں پتھر پھینکے دوسرے نے مٹکوں میں ہاتھ کھنگول دیے۔"      ( ١٩٦٠ء، ماہ نو، کراچی، مئی) ٤٩ ) ٣ - ہنگامہ، بغاوت، سرکشی۔ "کلوں کے رواج سے خفا ہو کر آدمیوں نے سرکشی اور دنگا کیا تھا۔"      ( ١٨٨٠ء، رام چندر (ماسٹر رام چندر) ١٢٠ )

جنس: مذکر