دوام

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - ہمیشگی، ابدیت، ہمیشہ باقی رہنے کی حالت یا کیفیت۔ "حکومت کے قیام و دوام کے لیے ان لوگوں کی شرکت کی بہت ضرورت تھی۔"      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٤٠٥:٤ ) ٢ - پائداری، استحکام، ثابت قدمی، مستقل مزاجی۔ "اس سب کے باوجود برطانیہ نے ہندوستان پر اپنی گرفت کو کم از کم ڈیڑھ سو سال کا دوام دے دیا۔"      ( ١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ١١٦ ) ١ - ہمیشہ رہنے والا، مدام، پائدار، مستقل۔  خزاں نصیب گل برگ برگ کو مژدہ کلی کلی کو بہار دوام دیتا ہوں      ( ١٩٦٢ء، پتھر کی لکیر، ٦٥ ) ١ - ہمیشگی اور استمرار کے طور پر، ہمیشہ، ہر وقت۔  سبزہ و برگ و لالہ رکھتے ہیں شوق دل میں دوام تجھ لب کا      ( ١٧٠٧ء، ولی، کلیات، ١٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم، صفت اور متعلق فعل استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٧٠٧ء سے "کلیات ولی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ہمیشگی، ابدیت، ہمیشہ باقی رہنے کی حالت یا کیفیت۔ "حکومت کے قیام و دوام کے لیے ان لوگوں کی شرکت کی بہت ضرورت تھی۔"      ( ١٩٠٧ء، نپولین اعظم، ٤٠٥:٤ ) ٢ - پائداری، استحکام، ثابت قدمی، مستقل مزاجی۔ "اس سب کے باوجود برطانیہ نے ہندوستان پر اپنی گرفت کو کم از کم ڈیڑھ سو سال کا دوام دے دیا۔"      ( ١٩٨٣ء، کوریا کہانی، ١١٦ )

جنس: مذکر