دوسرا
معنی
١ - پہلے کے بعد کا، ثانی، دیگر، دوم۔ "ایک بار منصور مدینہ آیا وہ بنو عباس کا دوسرا حکمران تھا۔" ( ١٩٨٥ء، روشنی، ١٧ ) ٢ - اپنے علاوہ کوئی اور؛ غیر، اجنبی، ناجنس۔ تم مرے پاس ہوتے ہو گویا جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا ( ١٨٥١ء، مومن، کلیات، ٤٥ ) ٣ - مقابل، برابر کا، ہمسر۔ "کہا کہ اس کا ثانی اگر عنایت ہو تو عین الطاف ہے ماہ یاز سلیمانی نے کہا کہ اس کا دوسرا تو نہ ملے گا۔" ( ١٨٠١ء، آرائش محفل، حیدری، ١٦٢ ) ٤ - کوئی اور، اور۔ بجا تھا سحرہ اسے جب تو بے وفا کہنا کسی کے ساتھ اگر دوسرا وفا کرتا ( ١٩١٨ء، سحر (سراج میر خاں)، بیاض سحر، ٦٩ ) ٥ - غم گسار، ہمدرد۔ یہ اور سوا ہے مجکو وسواس تنہائی ہے دوسرا نہیں پاس ( ١٨٨١ء، مثنوی، نیرنگ خیال، ٩٩ ) ٦ - کچھ اور، مختلف۔ "ایک ہی راستہ نظر آیا اور وہ یہ تھا کہ . کوئی دوسرا فلیٹ لے لوں۔" ( ١٩٨٤ء، کیمیا گر، ١١٠ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دو' کے ساتھ سنسکرت زبان سے ماخوذ لاحقۂ ترتیبی 'سرا' لگایا گیا ہے اردو میں ١٥٨٢ء کو "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - پہلے کے بعد کا، ثانی، دیگر، دوم۔ "ایک بار منصور مدینہ آیا وہ بنو عباس کا دوسرا حکمران تھا۔" ( ١٩٨٥ء، روشنی، ١٧ ) ٣ - مقابل، برابر کا، ہمسر۔ "کہا کہ اس کا ثانی اگر عنایت ہو تو عین الطاف ہے ماہ یاز سلیمانی نے کہا کہ اس کا دوسرا تو نہ ملے گا۔" ( ١٨٠١ء، آرائش محفل، حیدری، ١٦٢ ) ٦ - کچھ اور، مختلف۔ "ایک ہی راستہ نظر آیا اور وہ یہ تھا کہ . کوئی دوسرا فلیٹ لے لوں۔" ( ١٩٨٤ء، کیمیا گر، ١١٠ )