دوشیزگی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - کنوار پن، باکرہ ہونا۔ "مراندا پانچ سال کا عہد دوشیزگی کر کے معبدِ اریدو میں آگئی۔" ( ١٩٦٠ء، قطرۂ گوہریں، ٨٢ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دوشیزہ' کی 'ہ' حذف کر کے 'گی' لاحقۂ کیفیت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً ١٨٩٦ء سے "فلورا فلورنڈا" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کنوار پن، باکرہ ہونا۔ "مراندا پانچ سال کا عہد دوشیزگی کر کے معبدِ اریدو میں آگئی۔" ( ١٩٦٠ء، قطرۂ گوہریں، ٨٢ )
اصل لفظ: دوشِیزَہ
جنس: مؤنث