دولت

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دھن، مال، زرنقد، سرمایہ۔ "تم اپنی ساری دولت رعایا پر کیوں خرچ کیے دے رہے ہو۔"      ( ١٩٧٩ء، کلیاں، ٧٤ ) ٢ - اقبال مندی، نصیبا، خوش بختی۔ "ایسی حسین و جمیل صاحب عصمت و دولت عورت قسمت سے ملتی ہے۔"    ( ١٨٨٧ء، خیابان آفرینش، ١٩ ) ٣ - مہربانی، لطف، عنایت۔  کیتک لوکاں سو ہنستے تھے انو کی یک محبت پر کیتک دل کوں حضوراں کے سوشہ دولت ہوا رافع    ( ١٦١١ء، قلی قطب شاہ، کلیات، ١٤:١ ) ٤ - طفیل، دولت، سبب۔  کیا کہوں جو کہ ملا ہم کو جنوں کی دولت تن کو عریانی ملی پاؤں کے تئیں خار ملے      ( ١٨٠٩ء، جرات، کلیات، ٥٤١ ) ٥ - حکومت، مملکت "١٩٠٣ء میں انگریزوں کو خلیج فارس میں کسی اجنبی دولت کی مداخلت کا . اندیشہ پیدا ہوا تھا۔"      ( ١٩١٧ء، سفرنامۂ بغداد، ١٩ ) ٦ - [ تصوف ]  یاد خدا؛ قناعت، صبر و شکر۔  ایسا حال عاشقاں پر ہے ہشیاری ہوئے پچہیں بولنے پھبتا ولے ای دولت سیگانے کوں نہیں      ( ١٦٠٣ء، شرح تمہیدات ہمدانی، ١٣١ ) ٧ - [ مجازا ]  اولاد، بچے، بیٹا بیٹی۔ "اچھی بیوی کی یہ سچی تصویر . اپنی بیش بہا دولت کو گود میں لے نکل کھڑی ہوتی۔"      ( ١٩١٧ء، سات روحوں کے اعمال نامے، ١٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے اسم جامد ہے۔ اردو میں ساخت اور معنی کے اعتبار سے بعینہ داخل ہوا۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دھن، مال، زرنقد، سرمایہ۔ "تم اپنی ساری دولت رعایا پر کیوں خرچ کیے دے رہے ہو۔"      ( ١٩٧٩ء، کلیاں، ٧٤ ) ٢ - اقبال مندی، نصیبا، خوش بختی۔ "ایسی حسین و جمیل صاحب عصمت و دولت عورت قسمت سے ملتی ہے۔"    ( ١٨٨٧ء، خیابان آفرینش، ١٩ ) ٥ - حکومت، مملکت "١٩٠٣ء میں انگریزوں کو خلیج فارس میں کسی اجنبی دولت کی مداخلت کا . اندیشہ پیدا ہوا تھا۔"      ( ١٩١٧ء، سفرنامۂ بغداد، ١٩ ) ٧ - [ مجازا ]  اولاد، بچے، بیٹا بیٹی۔ "اچھی بیوی کی یہ سچی تصویر . اپنی بیش بہا دولت کو گود میں لے نکل کھڑی ہوتی۔"      ( ١٩١٧ء، سات روحوں کے اعمال نامے، ١٣ )

جنس: مؤنث