دوم

قسم کلام: صفت عددی

معنی

١ - دوسرا، ثانی، دیگر۔ "عبداللہ خان بہادر جو حضور پر نور کے وزیر دوم تھے بہت غضبناک اور بے تاب ہو گئے۔"      ( ١٩٣٧ء، واقعات اظفری، ٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے صفت عددی 'دو' کے ساتھ 'م' بطور لاحقۂ صفت ترتیبی لگانے سے 'دوم' بنا۔ اردو میں ١٩٣٧ء کو "واقعات اظفری" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دوسرا، ثانی، دیگر۔ "عبداللہ خان بہادر جو حضور پر نور کے وزیر دوم تھے بہت غضبناک اور بے تاب ہو گئے۔"      ( ١٩٣٧ء، واقعات اظفری، ٥ )

اصل لفظ: دو